سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹوں، قاسم خان اور سلیمان خان، نے اپنے والد کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو عمران خان کی گرفتاری کے تین سال مکمل ہونے کے موقع پر نشر کیا گیا، دونوں بھائیوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ سات ماہ سے ان کے اہلِ خانہ، ڈاکٹروں اور وکلا کو بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے باعث انہیں والد کی تازہ صورتحال سے متعلق معلومات نہیں ملتیں۔
دوسری جانب حکومتِ پاکستان نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان قیدِ تنہائی میں نہیں ہیں اور انہیں اہلِ خانہ، وکلا اور ڈاکٹروں تک مناسب رسائی فراہم کی جاتی رہی ہے۔ حکومت کے مطابق 4 اگست کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بھی ملاقات کرائی گئی۔ وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بیٹوں کے پاس نائیکوپ موجود ہے، اس لیے وہ پاکستان آ سکتے ہیں اور انہیں ویزے کی ضرورت نہیں۔
قاسم اور سلیمان خان نے تاہم مؤقف اختیار کیا کہ جب بھی وہ میڈیا سے بات کرتے ہیں، ان کے والد سے ملاقات مزید مشکل بنا دی جاتی ہے اور انتظامی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان آنا چاہتے ہیں، لیکن ان کے شناختی کارڈز کی مدت ختم ہو چکی ہے اور ان کی تجدید نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی اپنے والد سے آخری بار مارچ میں فون پر بات ہوئی تھی اور ان کے مطابق کم از کم ہر دو ہفتے بعد رابطے کی سہولت ہونی چاہیے۔
قاسم اور سلیمان خان نے عمران خان پر عائد کرپشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے والد کو بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھاتے دیکھا ہے اور انہی کی تربیت سے انہوں نے بھی کرپشن کے نقصانات کے بارے میں سیکھا۔ ان کے مطابق اپنے والد پر بدعنوانی کے الزامات سننا ان کے لیے انتہائی مایوس کن ہے۔






