*پی ٹی آئی لانگ مارچ: اہم ارکان کی گرفتاریوں کا فیصلہ، اسلام آباد کے داخلی راستوں پر خندقیں کھودنے کی تیاری*
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے پیش نظر وفاقی پولیس نے اہم پارلیمنٹیرینز کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی ارکان کی فہرستیں تیار کر لی گئی ہیں، اب تک 5 ارکان کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ ثناء اللہ مستی خیل، سیف اللہ نیازی اور غوث محمد کو پارلیمنٹ لاجز کے باہر سے جبکہ داوڑ خان اور احمد جمال حسن خان کو میانوالی ریڈیو پاکستان چوک سے گرفتار کیا گیا۔
دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خانم لاہور میں زیر حراست ہیں، انہیں ڈپٹی کمشنر لاہور کے حکم پر تھری ایم پی او کے تحت 30 روز کے لیے کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا ہے۔ حکمنامے میں ان کی موجودگی کو امن و امان کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے احتجاج روکنے کے لیے سخت حکمت عملی بنا لی ہے۔ کے پی سے اسلام آباد آنے والی شاہراہوں اور جی ٹی روڈ پر خندقیں کھودنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 26 نمبر چونگی، پیرودھائی، آئی جے پی روڈ، اسوال موڑ اور کٹی پہاڑی پر رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی۔
راولپنڈی پولیس نے 48 تعلیمی ادارے بند کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کر لیا ہے تاکہ پنجاب بھر سے آنے والی 15 ہزار نفری کو وہاں ٹھہرایا جا سکے، جو اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں راولپنڈی پہنچے گی۔






