امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ 12 ربیع الاول کے اگلے ہفتے ملک بھر میں ہڑتال کی کال دیں گے۔ اس ہڑتال میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن بھی شامل ہوگا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں کئی طرح کی صورتحال جاری ہے۔ مہنگائی نے عوام کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ہر شعبے میں مشکلات ہیں، جبکہ حکومت کا نظام عوام کو ریلیف نہیں دے رہا۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم لیوی ایک بھتہ ٹیکس ہے۔ ہر لیٹر پر 80 روپے ایسا ٹیکس لیا جا رہا ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔ لیوی کا مقصد ریفائنریوں کو اپ گریڈ کرنا تھا، لیکن 8 ہزار ارب روپے سے زائد لیوی جمع کی گئی جبکہ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن پر 100 ارب روپے بھی خرچ نہیں ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ پشاور میں جماعت اسلامی کا بڑا دھرنا جاری ہے اور ہر دن اس میں عوام کی شرکت بڑھ رہی ہے۔ تاجر، علما، نوجوان اور سول سوسائٹی کے افراد بھی دھرنوں میں شریک ہیں جو عوام کے مسائل حل کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اگر حکومت پیچھے نہیں ہٹتی تو دھرنوں کو پورے ملک میں پھیلائیں گے۔ لیوی کا خاتمہ انا کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام کا مسئلہ ہے۔ وزیراعظم سے مطالبہ ہے کہ وہ 30 روپے نہیں بلکہ 130 روپے پیٹرول کی قیمت کم کریں۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں احتجاجی کیمپ بھی لگائے جائیں گے۔ ہم قوم کے لیے ریلیف چاہتے ہیں اور پوری قوم سے اپیل ہے کہ وہ اس مسئلے میں ساتھ دے۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ ملک پر 98 ہزار ارب روپے کا قرضہ ہو چکا ہے۔ حکومت سود کے خاتمے کے لیے اپنے وعدے پورے کرے، کیونکہ سود کم ہونے سے قرض بھی کم ہوگا۔






