وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کا ایک اور فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

وفاقی آئینی عدالت نے عوامی مقاصد کے لیے زمین کے حصول کے معاملے پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ کے ساتھ پشاور اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے بھی کالعدم قرار دے دیے۔

 

چیف جسٹس امین الدین خان نے 45 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔ اس فیصلے سے جسٹس علی باقر نجفی نے مکمل اتفاق کیا جبکہ جسٹس ارشد حسین نے اضافی نوٹ لکھا۔

 

عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کا اراضی مالکان کو بڑھا ہوا معاوضہ دینے کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ لینڈ ایکوزیشن کے وقت معاوضہ وصول کرنے والے مالکان بعد میں اضافی قیمت کے حقدار نہیں رہتے۔

 

عدالت کے مطابق اراضی کے جبری حصول کے ساتھ قانون کے مطابق منصفانہ معاوضے کی ادائیگی لازمی ہے اور تمام زمین مالکان کو یکساں معاوضہ دینا مقننہ کی ذمہ داری ہے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ عدالت کا کام قانون پر عملدرآمد کروانا ہے۔ جسٹس ارشد حسین نے اضافی نوٹ میں رائے دی کہ جو اضافی رقم ادا کی جا چکی ہے اسے واپس نہ لیا جائے۔

 

کیس کا پس منظر یہ ہے کہ 1894 کے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت دفاعی منصوبوں، تعلیمی اداروں، گرڈ اسٹیشنز اور موٹرویز جیسے عوامی مقاصد کے لیے زمین حاصل کی گئی تھی۔ بعد میں کچھ اراضی مالکان نے معاوضہ بڑھانے کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا۔ جنہوں نے پہلے ہی معاوضہ لے لیا تھا انہوں نے بھی اضافی رقم کے لیے مقدمات دائر کیے۔

 

ہائیکورٹس نے بعض مالکان کے حق میں اضافی ادائیگی کے فیصلے دیے تھے جنہیں وفاقی آئینی عدالت نے اب کالعدم قرار دے دیا ہے۔