امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف غیر معمولی معاشی دباؤ اور دنیا بھر میں تنہائی کی دھمکی کے بعد، ایران سے تجارت کرنے والے ممالک بھی امریکی پابندیوں میں گھرنے کے خدشے سے دوچار ہیں۔
چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا اہم خریدار ہے۔ 2025 میں چین نے اوسطاً روزانہ 13 لاکھ 80 ہزار بیرل ایرانی تیل خریدا۔ امریکی محکمہ خزانہ پہلے ہی ایرانی تیل خریدنے والی ایک چینی ریفائنری پر پابندیاں لگا چکا ہے اور چینی بینکوں کو ثانوی پابندیوں سے خبردار کیا جا چکا ہے۔
متحدہ عرب امارات بھی ایران کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔ 2024 میں ایران کی درآمدات کا تقریباً 30 فیصد یو اے ای سے آیا، لیکن حالیہ کشیدگی کے بعد امارات نے ایران کے ساتھ مالی اور اقتصادی لین دین عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ترکی اور ایران کے درمیان سالانہ تجارت تقریباً 5 سے 6 ارب ڈالر ہے۔ ترکی ایران سے قدرتی گیس درآمد کرتا ہے جبکہ تیار شدہ مصنوعات ایران کو برآمد کرتا ہے۔
عراق کے ساتھ ایران کی تجارت 2025 میں 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔ بغداد ایرانی گیس کے لیے سالانہ 4 سے 5 ارب ڈالر ادا کرتا ہے۔
عمان کے بھی ایران سے قریبی تعلقات ہیں۔ 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان اشیا کی تجارت ڈیڑھ ارب ڈالر رہی۔
پاکستان کے لیے بھی امریکی دباؤ ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم کر رکھا ہے۔ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان غیر رسمی تجارت تقریباً 4 ارب ڈالر تک پہنچتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تیل، گندم، چاول، مویشی اور ادویات کی تجارت بھی جاری ہے۔
بھارت کی ایران سے تجارت 2025-2026 میں کم ہو کر 1.63 ارب ڈالر رہ گئی۔ آرمینیا اور آذربائیجان بھی ایران کے اہم علاقائی تجارتی شراکت داروں میں شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نئی امریکی پابندیاں نافذ ہوئیں تو ایران سے تجارت کرنے والے ممالک کو اپنے اقتصادی مفادات اور واشنگٹن کے دباؤ کے درمیان مشکل توازن برقرار رکھنا پڑے گا۔






