ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد نئی اقتصادی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں امریکا کے اندرونی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کی کوش قرار دے دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر بیان میں کہا کہ ٹرمپ کا نام نہاد ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ امریکا کے بڑھتے قرضوں، غیر معمولی اخراجات اور سود کی ادائیگیوں سے نظریں ہٹانے کے لیے ہے۔ انہوں نے امریکی معاشی پالیسیوں کو عالمی معیشت اور دیگر ممالک کی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیا اور کہا کہ ناکام پالیسیوں کو آگے بڑھانے سے امریکا کو مزید شکست اور ایرانی عوام کی مزید مزاحمت کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔
عراقچی نے اپنے بیان کے ساتھ نیویارک ٹائمز اور سی این کی وہ رپورٹ بھی شیئر کی جس میں امریکی قرض کے 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا ذکر تھا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے بدھ کو اعلان کیا کہ امریکا ایران کے خلاف ’’بے مثال اقتصادی جنگ اور تنہائی‘ شروع کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی مدد کرنے والے ممالک کو ’’بہت بڑے اقتصادی نتائج‘ بھگتنا پڑیں گے، تاہم کسی ملک کا نام یا اقدامات کی تفصیل نہیں بتائی۔
چین نے بھی ردعمل میں کہا کہ پابندیاں اور دباؤ مسائل کا حل نہیں۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی اور سفارتی راستہ اپنائیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ اقتصادی اقدامات سے تہران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ امریکی دھمکیوں کے بعد جمعرات کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تین ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران پر دباؤ بڑھانے سے امریکا، اس کے اتحادیوں اور عالمی معیشت کو بھی مشکلات ہو سکتی ہیں۔ سابق امریکی سفیر ڈین شاپیرو کے مطابق ایران میں دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت ہے اور وہ امریکا اور عالمی معیشت پر اثر ڈالنے کے آپشنز رکھتا ہے۔
ایران کئی دہائیوں سے امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور فروری میں جنگ کے آغاز کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے مزید پابندیاں لگائیں۔ جنگ ختم کرنے کے لیے 60 روزہ مذاکرات کی مدت اس ہفتے ختم ہو گئی اور توسیع کا کوئی اعلان نہیں ہوا۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات ’’کسی مرحلے پر‘‘ دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔






