ایک اور یورپی ملک نے چہرہ ڈھانپنے پر پابندی لگا دی

پرتگال نے عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ یہ قانون صدر انتونیو ہوزے سیگورو کے دستخط کے بعد نافذ کیا گیا، جبکہ اس کی تجویز دائیں بازو کی جماعت چیگا نے پیش کی تھی۔

 

صدر سیگورو نے قانون کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم سماجی اور ثقافتی حساسیت کا معاملہ ہے۔ ان کے مطابق پارلیمانی عمل کے دوران کی جانے والی ترامیم نے انہیں قانون پر دستخط کرنے پر آمادہ کیا۔

 

صدر نے قانون کی حمایت میں سماجی انضمام، عدم امتیاز اور عوامی تحفظ کے اصولوں کے علاوہ یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ عوامی مقامات پر چہرہ کھلا رکھنا سماجی اعتماد اور پرتگالی معاشرے کی اہم خصوصیات میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کے لیے مکمل چہرہ ڈھانپنے کو مخصوص کرنا مردوں اور خواتین کے درمیان مساوات اور مساوی وقار کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

 

دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل پرتگال نے قانون کو امتیازی قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی ہے۔ تنظیم کے مطابق اس پابندی سے ان مسلم خواتین کے حقوق متاثر ہوسکتے ہیں جو اپنی مرضی سے چہرہ ڈھانپنے کا انتخاب کرتی ہیں۔

 

پرتگال ان یورپی ممالک میں شامل ہوگیا ہے جہاں عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر مکمل یا جزوی پابندیاں عائد ہیں، جن میں فرانس، بیلجیم، آسٹریا، ڈنمارک اور نیدرلینڈز شامل ہیں۔