ٹرمپ کا ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کا اعلان، حمایت کرنے والے ممالک کو بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں

کہا گیا ہے کہ اس وقت ایران کے ساتھ کوئی باقاعدہ مذاکرات نہیں ہو رہے۔

 

تاہم صدر کے داماد اور نمائندہ خصوصی جیرڈ کُشنر کا دعویٰ ہے کہ پردے کے پیچھے بات چیت جاری ہے اور یہ پہلے سے زیادہ مضبوط مرحلے میں ہے۔

 

امریکی صدر 2018 میں پرانے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد اب ایران سے ایک نیا اور سخت معاہدہ چاہتے ہیں۔ اس مجوزہ معاہدے میں ایران کے تمام افزودہ یورینیم کے ذخائر امریکا کے حوالے کرنے کی شرط شامل ہے۔

 

دوسری جانب ایران کئی دہائیوں سے یہ موقف دہرا رہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن اور شہری ضروریات کے لیے ہے۔