نئی دہلی (آئی این پی) بھارت میں آوارہ کتوں سے پریشان ایک شہری نے حکام کی توجہ حاصل کرنے کیلئے انوکھا طریقہ اپناتے ہوئے خود کتا بن کر احتجاج کرنے پہنچ گیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کے شہر کھنڈوا میں ایک شخص کتے کا ماسک پہن کر اور کتے کا روپ دھار کر سرکاری عوامی سماعت میں پہنچا، جہاں اس نے شہر میں بڑھتی ہوئی آوارہ کتوں کی تعداد کے خلاف احتجاج کیا۔
شہری کا منفرد حلیہ دیکھ کر سیکیورٹی اہلکاروں نے ابتدا میں اسے اندر جانے سے روک دیا، مگر اپوزیشن رہنماؤں کی مداخلت کے بعد اسے داخلے کی اجازت مل گئی۔
احتجاج میں شریک میونسپل کارپوریشن کے اپوزیشن لیڈر دیپک راٹھور نے الزام لگایا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران آوارہ کتوں کی نس بندی پر تقریباً 40 لاکھ بھارتی روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود شہر میں کتوں کی تعداد کم ہونے کے بجائے مسئلہ برقرار ہے۔
ان کا دعویٰ تھا کہ گزشتہ چار سال میں شہر میں 13 ہزار 225 ڈاگ بائٹ کیسز سامنے آچکے ہیں، جس سے شہری، خصوصاً بچے، خواتین اور بزرگ خوف کا شکار ہیں۔
مظاہرین نے حکام سے نس بندی مہم، اس پر ہونے والے اخراجات، ٹینڈر اور متعلقہ ایجنسی کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر لاکھوں روپے خرچ کیے گئے تو آوارہ کتوں کی تعداد میں کمی کیوں نہیں آئی؟
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے شکایت کی تحقیقات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بے ضابطگیاں سامنے آنے پر ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔






