نیند کی کمی کا ایک اور نقصان سامنے آگیا، نئی تحقیق کے نتائج جانیں

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی حقیقی عمر سے زیادہ بوڑھا محسوس کرتا ہے تو اس کی ایک اہم وجہ معیاری نیند کی کمی ہو سکتی ہے۔

طبی جریدے *Sleep* میں شائع ہونے والی اور نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن کی قیادت میں کی گئی تحقیق میں 3 ہزار 100 سے زائد بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا۔ شرکا سے پوچھا گیا کہ وہ خود کو کتنی عمر کا محسوس کرتے ہیں، جس کے بعد ان کی نیند کے معیار، نیند کے معمول اور دن کے وقت کی تھکن کا تجزیہ کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق جو افراد اپنی اصل عمر سے زیادہ بوڑھا محسوس کرتے تھے، ان میں بے خوابی، بے ترتیب نیند، دن بھر تھکن اور جسمانی صحت کے مسائل زیادہ پائے گئے۔

ماہرِ نفسیات جوناتھن ایلپرٹ کے مطابق ناکافی نیند انسان کو ذہنی طور پر کم چوکنا، کم توانائی والا، چڑچڑا اور توجہ کی کمی کا شکار بنا سکتی ہے، جس کے باعث وقت سے پہلے بڑھاپے کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص مسلسل تھکن یا کمزوری محسوس کر رہا ہو تو اسے صرف عمر کا اثر سمجھنے کے بجائے اپنی نیند کے معیار پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

محققین نے واضح کیا کہ یہ تحقیق مشاہداتی نوعیت کی ہے، اس لیے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ناقص نیند ہی بڑھاپے کے احساس کی براہِ راست وجہ ہے، تاہم دونوں کے درمیان واضح تعلق ضرور سامنے آیا ہے۔