اے آئی کو کھلی چھٹی ملی تو کیا ہوگا؟ ماہر نے خبردار کردیا

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس کے ذمہ دارانہ استعمال، کڑی نگرانی اور حفاظتی اصولوں کی ضرورت پر بحث شدت اختیار کرتی جا رہی ہے، پاکستان کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی کے سی ای او آصف پیر کے مطابق اے آئی کو روکنے کے بجائے اسے ذمہ دارانہ انداز میں اپنانے اور ایسے حفاظتی اصول وضع کرنے کی ضرورت ہے جو اس ٹیکنالوجی کو انسانی کنٹرول میں رکھیں، نجی ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اے آئی اس صدی کی سب سے بڑی اختراعات اور بڑی تبدیلیوں میں سے ایک ہے اس لیے اس کی ترقی پر مکمل پابندی لگانے کے بجائے ذمہ دارانہ استعمال پر توجہ دینی چاہیے، ان کے مطابق دنیا بھر میں اے آئی سے وابستہ رہنما بھی اسی نکتے پر بات کر رہے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کو انسانیت کے فائدے اور انسانی کنٹرول کے تحت استعمال کیا جائے، انہوں نے مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو کی حالیہ بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اے آئی انسانیت کے لیے فائدہ مند نہیں اور انسانی کنٹرول میں نہیں تو اس کا تعاقب قابل قدر نہیں، اسی طرح گوگل کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے بھی اے آئی کو جرات مندی کے ساتھ لیکن ذمہ داری سے اپنانے کی بات کی گئی ہے، آصف پیر کے مطابق اے آئی سے جوابات، معلومات اور تحقیق حاصل کی جا سکتی ہے لیکن اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے اقدامات اور نتائج کی ذمہ داری انسانوں پر ہی رہنی چاہیے، اگر اے آئی ایجنٹس کو مکمل خودمختاری دے دی جائے اور وہ بغیر انسانی نگرانی کے اپنی مرضی سے کام شروع کر دیں تو ایسے نظام کو ذمہ دار اے آئی قرار نہیں دیا جا سکتا، انہوں نے ممکنہ انسانی ضابطہ اخلاق کے تین اہم اصولوں کا ذکر کیا کہ اے آئی ایجنٹس کو انسانی کنٹرول میں رہنا چاہیے، انہیں انسانی مقاصد سے ہم آہنگ ہونا چاہیے اور ان کی سرگرمیوں کو حفاظتی حدود کے اندر محدود رکھا جانا چاہیے، آصف پیر نے کہا کہ اے آئی کی ترقی کی رفتار کے مقابلے میں اس ٹیکنالوجی کو ریگولیٹ کرنے، اس کی حفاظت یقینی بنانے اور گارڈ ریلز وضع کرنے والا نظام پیچھے رہ گیا ہے۔