خبردار !!! یہ غلطیاں فوراً چھوڑ دیں، ورنہ بجلی کا بل بڑھ سکتا ہے

بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دوران انورٹر گھروں کے لیے بڑی سہولت بن جاتا ہے، تاہم غلط استعمال کی صورت میں یہ بجلی کے اضافی خرچ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ انورٹر لگانے سے خود بخود بجلی کا بل بڑھ جاتا ہے، حالانکہ ایسا نہیں۔ انورٹر بجلی پیدا نہیں کرتا بلکہ بجلی موجود ہونے پر بیٹری چارج کرتا ہے اور بجلی بند ہونے کی صورت میں اسی ذخیرہ شدہ توانائی سے ضروری آلات چلاتا ہے۔

انورٹر کی بجلی کی کھپت کا انحصار اس کی صلاحیت، بیٹری کی حالت، استعمال ہونے والے لوڈ اور بجلی کی بندش کے دورانیے پر ہوتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ لوڈ، خراب بیٹری یا غیر ضروری آلات کا مسلسل استعمال بجلی کی مجموعی کھپت بڑھا سکتا ہے۔

ضرورت سے زیادہ لوڈ سے گریز کریں

بجلی بند ہوتے ہی گھر کے زیادہ سے زیادہ آلات انورٹر پر چلانا عام غلطی ہے۔ پنکھے، لائٹس، ٹی وی اور کمپیوٹر جیسے ضروری آلات نسبتاً کم توانائی استعمال کرتے ہیں، لیکن استری، ہیٹر، مائیکروویو اور واشنگ مشین جیسے زیادہ طاقت والے آلات بیٹری تیزی سے ختم کر سکتے ہیں۔

بیٹری جتنی تیزی سے ڈسچارج ہوگی، اسے دوبارہ چارج کرنے کے لیے اتنی ہی زیادہ بجلی درکار ہوگی۔ اس لیے لوڈشیڈنگ کے دوران صرف ضروری آلات کو انورٹر پر چلانا بہتر ہے۔

مناسب صلاحیت کا انورٹر منتخب کریں

صرف زیادہ طاقت یا بڑی گنجائش والا انورٹر خریدنا ہمیشہ بہتر فیصلہ نہیں ہوتا۔ بہت کم صلاحیت والا انورٹر زیادہ لوڈ برداشت نہیں کر پاتا، جبکہ ضرورت سے کہیں زیادہ صلاحیت والا نظام بھی غیر ضروری اخراجات کا باعث بن سکتا ہے۔

انورٹر کا انتخاب گھر کے مجموعی لوڈ، مطلوبہ بیک اپ ٹائم اور بیٹری سسٹم کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنا چاہیے۔

بیٹری کی حالت پر نظر رکھیں

پرانی یا خراب بیٹری چارج کم دیر تک برقرار رکھتی ہے اور اسے بار بار چارج کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر بیٹری معمول سے جلد ختم ہو رہی ہو، چارج ہونے میں غیر معمولی وقت لے رہی ہو یا بیک اپ نمایاں طور پر کم ہوگیا ہو تو انورٹر اور بیٹری کی جانچ کرانا ضروری ہے۔

بروقت دیکھ بھال سے کارکردگی بہتر رکھنے اور غیر ضروری بجلی کے استعمال کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

صفائی اور وینٹی لیشن ضروری ہے

انورٹر کے اردگرد گرد و غبار جمع ہونے یا وینٹی لیشن کے راستے بند ہونے سے اس کی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔ انورٹر کے اردگرد مناسب جگہ رکھیں اور وینٹی لیشن کے راستے کھلے رکھیں۔

بیٹری کی صفائی اور دیکھ بھال بھی مینوفیکچرر کی ہدایات کے مطابق کی جائے۔ اگر بیٹری میں پانی ڈالنے کی ضرورت ہو تو صرف کمپنی کی ہدایات پر عمل کریں۔

اسٹینڈ بائی موڈ بھی بجلی استعمال کرتا ہے

بعض جدید انورٹرز اسٹینڈ بائی میں بہت کم بجلی استعمال کرتے ہیں، تاہم اگر انہیں طویل عرصے تک بلا ضرورت آن رکھا جائے تو معمولی اضافی کھپت ہوسکتی ہے۔ اس لیے جب انورٹر کی ضرورت نہ ہو تو اسے کمپنی کی ہدایات اور حفاظتی طریقہ کار کے مطابق استعمال کرنا بہتر ہے۔

بار بار لوڈشیڈنگ سے کھپت بڑھ سکتی ہے

جن علاقوں میں بجلی بار بار بند ہوتی ہے وہاں بیٹری بھی زیادہ مرتبہ چارج اور ڈسچارج ہوتی ہے۔ ہر بار بیٹری کو دوبارہ چارج کرنے کے لیے بجلی درکار ہوتی ہے، جبکہ چارجنگ اور توانائی کو ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل کرنے کے دوران کچھ توانائی ضائع بھی ہوتی ہے۔

اسی لیے انورٹر سے بیٹری میں منتقل ہونے والی توانائی اور بعد میں حاصل ہونے والی توانائی بالکل برابر نہیں ہوتی۔

کم بجلی استعمال کرنے والے آلات بہتر ہیں

اگر انورٹر کا استعمال زیادہ ہوتا ہے تو ایل ای ڈی بلب، توانائی بچانے والے پنکھے اور دیگر مؤثر برقی آلات استعمال کرنا فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ بجلی بند ہونے کے دوران غیر ضروری لائٹس اور دیگر آلات بند رکھنے سے بیٹری زیادہ دیر تک چل سکتی ہے۔

آخرکار انورٹر کو بجلی کا دشمن سمجھنے کے بجائے بیک اپ سسٹم کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اس کی اضافی بجلی کی کھپت بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ اسے کتنے لوڈ کے ساتھ اور کتنی بار استعمال کیا جا رہا ہے۔

ضروری آلات تک استعمال محدود رکھنے، بیٹری کی مناسب دیکھ بھال، انورٹر کی صفائی اور گھر کی ضرورت کے مطابق درست صلاحیت کا نظام منتخب کرنے سے توانائی کے غیر ضروری ضیاع کو کم کیا جاسکتا ہے اور بجلی کے اخراجات کو بھی قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔