وزیراعظم کاٹیکس چوری، اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروبار کیخلاف مؤثر کارروائیاں تیز کرنے کی ضرورت پر زور

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا، جس میں ایف بی آر میں جاری اصلاحات اور پی آر اے ایل کی تنظیم نو پر بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ آئی آر آئی ایس 3.0 کے ڈیزائن کے لیے کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرلی گئی ہیں، جبکہ فیس لیس اسیسمنٹ سے محاصل میں بہتری اور درآمدی بے ضابطگیوں کی نشاندہی میں اضافہ ہوا ہے۔

اسلام آباد میں جدید سینٹرل اسیسمنٹ یونٹ کا عبوری انتظام 31 دسمبر تک فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مکمل مربوط کمپلیکس جون 2027 تک فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔

بریفنگ کے مطابق دسمبر تک ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے 4 ٹریلین روپے کی ریکارڈ ٹرانزیکشنز کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے قانونی پیٹرول پمپس کی جی آئی ایس ٹیگنگ مکمل کرلی گئی ہے، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی جی پی ایس ٹریکنگ اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ای آر پی نظام کی منسلکی بھی مکمل ہوگئی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے پیٹرولیم ٹریکنگ کی مرکزی موبائل ایپ فعال کردی گئی، جبکہ راہ گزر ایپ کے ذریعے 2 ہزار 500 غیر قانونی پیٹرول پمپس بند کرکے انہیں قانون کے حوالے کیا گیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ ٹیکس نظام میں اصلاحاتی اقدامات مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں اور اصلاحاتی عمل کی شفافیت، مؤثریت اور پائیداری یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کرایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی پائیدار معاشی ترقی اور استحکام کے لیے ٹیکس نظام میں جامع اصلاحات جاری ہیں، جبکہ ڈیجیٹلائزیشن، پیداوار کی خودکار نگرانی اور جدید نظام ایف بی آر اصلاحات کے بنیادی ستون ہیں۔

وزیراعظم نے ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف مؤثر کارروائیاں مزید تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیم کی اصلاحاتی کوششوں کو سراہا۔