قومی اسمبلی میں پمز سانحے پر متفقہ قرارداد منظور

قومی اسمبلی نے پمز اسلام آباد کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 بچوں کی جاں بحق ہونے کے سانحے پر متفقہ طور پر قرارداد منظور کرلی۔

قرارداد میں معصوم بچوں کی اموات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کی گئی اور غفلت کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

ایوان نے حکومت سے وفاقی اسپتالوں، خصوصاً نرسری اور بچوں کے وارڈز میں فائر سیفٹی کے مؤثر انتظامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا، تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ کی خصوصی پارلیمانی کمیٹی برائے پمز سانحہ تشکیل دینے کی تحریک بھی منظور کرلی گئی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپوزیشن کو بھی کمیٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی۔

اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے سانحے کی آزادانہ تحقیقات، ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔

پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور وزیراعظم شہباز شریف سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے پمز انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کرانے پر زور دیا۔ بیرسٹر گوہر نے بھی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کے ساتھ متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کا مطالبہ کیا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے جاں بحق بچوں کے لواحقین کے لیے 50 لاکھ روپے فی خاندان مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات محض رسمی کارروائی تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ذمہ داروں کا احتساب بھی یقینی بنایا جائے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے چیئرمین ڈاکٹر مہیش کمار نے بتایا کہ کمیٹی کے پمز دورے کے دوران ڈاکٹروں، نرسوں اور انتظامیہ کے بیانات میں تضادات سامنے آئے ہیں، جن کی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سانحے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے پارلیمانی کمیٹی کو مؤثر انداز میں تحقیقات آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کی اموات کا یہ واقعہ صرف ایک ادارے کا معاملہ نہیں بلکہ بچوں کی صحت اور تحفظ کے وسیع تر مسئلے کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے۔