سینیٹ میں پمز سانحے پر شدید بحث، ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور

سینیٹ کے اجلاس میں پمز سانحے پر شدید بحث ہوئی، جس کے دوران واقعے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ ایوان نے سانحے کی تحقیقات کے لیے ہاؤس کمیٹی تشکیل دینے کی قرارداد بھی منظور کرلی۔

اجلاس میں معمول کی کارروائی معطل کرکے پمز سانحے پر بحث شروع کی گئی۔ ارکان نے واقعے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیا۔

سینیٹر علی ظفر نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات کے لیے ایسی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں حکومت اور اپوزیشن کی مساوی نمائندگی ہو اور اس کی سربراہی اپوزیشن کے رکن کو دی جائے۔ انہوں نے کمیٹی کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایس او پیز بنانے کا اختیار دینے کی بھی تجویز دی۔

سینیٹر پرویز رشید نے پمز میں سی ایم ایچ کے طرز کا انتظامی اور طبی نظام نافذ کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین اور ان کے اہلخانہ کے سرکاری اسپتالوں سے علاج کو یقینی بنایا جائے، تاکہ سرکاری اسپتالوں کا معیار بہتر ہوسکے۔

شیری رحمان نے پمز سانحے کی تحقیقات کے لیے ہاؤس کمیٹی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامی اخراج کے راستوں اور فائر سیفٹی انتظامات سے متعلق سوالات کے جواب دیے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمیٹی کو تحقیقات مکمل کرنے کے لیے 40 دن کا وقت دیا جائے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے سانحے کی تحقیقات کے لیے دو کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں اور حکومت واقعے پر سنجیدہ ہے۔

اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے پمز انتظامیہ کے خلاف کارروائی اور اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کی موجودگی میں شفاف تحقیقات ممکن نہیں۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سانحے کو اندوہناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعے کی کوئی توجیح پیش نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کمیٹی کی تشکیل کی حمایت کی اور یقین دلایا کہ شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے صحت کے مجموعی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مقصد صرف پمز کے واقعے کی تحقیقات نہیں بلکہ پورے نظام صحت کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔

بعد ازاں شیری رحمان نے پمز سانحے کی تحقیقات کے لیے ہاؤس کمیٹی تشکیل دینے کی قرارداد پیش کی، جسے سینیٹ نے منظور کرلیا۔