اسلام آباد: شوگر ملز مالکان کی جانب سے ایک بار پھر 6 لاکھ 33 ہزار ٹن سرپلس چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ سامنے آگیا ہے، جبکہ ماضی میں چینی کی برآمد اور درآمد کے فیصلوں کے باعث عوام کو بھاری قیمتیں ادا کرنا پڑیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال حکومت نے ساڑھے 7 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی، جس کے بعد مارکیٹ میں قلت پیدا ہوئی اور 120 روپے کلو والی چینی 200 روپے سے زائد میں فروخت ہونے لگی۔ قیمتیں قابو کرنے کے لیے 3 لاکھ میٹرک ٹن چینی ٹیکس اور ڈیوٹی میں رعایت دے کر درآمد کی گئی، تاہم قیمتوں میں خاطر خواہ کمی نہ آسکی۔
رپورٹ کے مطابق حکومت اب دوبارہ 1 لاکھ 8 ہزار میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے، جبکہ شوگر ملز مالکان مزید 6 لاکھ 33 ہزار ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت کے خواہاں ہیں۔
آڈٹ حکام نے پبلک اکانٹس کمیٹی کو بتایا کہ چینی کے حوالے سے مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث عوام پر 300 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑا۔ مسابقتی کمیشن کے مطابق شوگر ملز نے مبینہ طور پر 13 فیصد اضافی پیداوار ظاہر کرکے چینی برآمد کی، جبکہ 57 لاکھ میٹرک ٹن پیداوار کو 66 لاکھ میٹرک ٹن ظاہر کیا گیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 2015 سے 2020 کے دوران افغانستان کو 23 لاکھ 55 ہزار میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صرف 15 لاکھ میٹرک ٹن چینی افغانستان پہنچی، جبکہ 7 لاکھ 78 ہزار میٹرک ٹن چینی کا ریکارڈ موجود نہیں تھا۔
قیمتیں بڑھانے کے الزام میں 38 شوگر ملز کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے۔ ایف آئی اے کو شبہ تھا کہ قیمتیں بڑھا کر عوام سے 110 ارب روپے حاصل کیے گئے، جبکہ 2018 سے 2020 کے دوران پیداواری لاگت کے مبینہ غلط اعداد و شمار کے ذریعے 53 ارب روپے اضافی منافع کمانے اور 18 ارب روپے کارپوریٹ ٹیکس بچانے کے الزامات بھی سامنے آئے۔
رپورٹ کے مطابق 2020 تک شوگر ملز مالکان نے چینی برآمد کرنے کے لیے حکومت سے 4 ارب 12 کروڑ روپے کی سبسڈی بھی حاصل کی۔
اب شوگر ملز مالکان 80 لاکھ میٹرک ٹن پیداوار کا تخمینہ پیش کرکے 13 لاکھ میٹرک ٹن سرپلس چینی ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں اور اسی بنیاد پر 6 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی فوری اجازت مانگ رہے ہیں۔
دوسری جانب حکومت اب تک آئی ایم ایف کی جانب سے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی شرط بھی پوری نہیں کرسکی۔





