تیل کی قیمتوں سے متعلق عالمی منڈی سے بڑی خبر

عالمی منڈی میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں ایک ڈالر سے زائد فی بیرل کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کاروں نے ایران پر مزید امریکی پابندیوں کے متوقع اعلان سے قبل منافع وصولی شروع کر دی۔

برینٹ خام تیل کے سودے 1.22 ڈالر یا 1.29 فیصد کمی کے بعد 93.17 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 1.20 ڈالر یا 1.38 فیصد کمی کے ساتھ 85.86 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

گزشتہ ہفتے دونوں خام تیل کے معاہدوں میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث عالمی مارکیٹ میں سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے تھے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پیر کو ایک پریس کانفرنس میں ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ایران پر سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے تجارتی شراکت داروں کو بھی پابندیوں کی زد میں لانے کا عندیہ دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر نئی امریکی پابندیاں ایران کو معاشی طور پر مزید تنہا کرنے میں کامیاب ہوئیں تو خطے میں کشیدگی اور عالمی توانائی کی منڈیوں کو درپیش خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے امریکی پابندیوں کے منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

تجارتی ذرائع کے مطابق امریکی ناکہ بندی کے باعث چین کو ایرانی تیل کی فروخت کی پیشکشوں میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم، ایران نے بغداد کی متعدد درخواستوں کے بعد بعض عراقی آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں ایران کی قیادت کے رویے اور امریکی پابندیوں کی تفصیلات عالمی تیل کی قیمتوں کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔