ایران کے ساتھ تقریباً 6 ماہ کی جنگ نے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے مستقبل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ایران کے حملوں کے باعث امریکا کو اپنے فوجیوں اور طیاروں کو ایرانی حملوں کی زد سے دور اسرائیل، اردن اور دیگر نسبتاً محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اب واشنگٹن کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا ان فوجی تنصیبات کی دوبارہ تعمیر پر اربوں ڈالر خرچ کیے جائیں یا بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کے پورے ڈھانچے پر نظرثانی کی جائے۔
واشنگٹن کے تھنک ٹینک امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ نے اپریل میں اندازہ لگایا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے 7 ممالک میں موجود 11 امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کی مرمت پر تقریباً 5 ارب ڈالر خرچ ہوسکتے ہیں۔ تاہم پینٹاگون نے ایران کے ساتھ جنگ کی لاگت کے اپنے تخمینوں میں ان اڈوں کی تعمیر نو کے اخراجات شامل نہیں کیے۔
گزشتہ چار دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی خلیجی ممالک میں پھیلے بڑے فوجی اڈوں کے وسیع نیٹ ورک پر قائم رہی ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے امریکی تنصیبات پر میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں نے ان اڈوں کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے، خاص طور پر وہ تنصیبات جو ایران کے ساحلوں کے نسبتاً قریب واقع ہیں۔






