دوسری جانب لاہور میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے احتجاجی تحریک کے آئندہ اور سخت ترین لائحہ عمل کا اعلان کیا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے واضح کیا کہ حکومت کے ساتھ دھرنا ختم کرنے کے حوالے سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، بلکہ بات چیت صرف اس معاملے پر ہوگی کہ لیوی کے نام پر عائد بھتہ نما ٹیکس کو کس طرح ختم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مافیاز نے پہلے چینی درآمد کرکے منافع کمایا اور اب اسے برآمد کرکے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران آٹے کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ ملک کے تمام اضلاع میں احتجاجی کیمپ قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 12 ربیع الاول کے بعد 13 ربیع الاول کو ملک گیر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم نہ کیا اور مطالبات کو عملی طور پر تسلیم نہ کیا تو ملک گیر ہڑتال کے بعد اسلام آباد کی جانب بڑا لانگ مارچ بھی کیا جائے گا۔






