امریکی جارحیت سے خطے کے امن کو خطرہ ہے، جمعیت نظریاتی

کوئٹہ (آن لائن) جمعیت علمائے اسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی رہنماؤں نے کہا ہے کہ امریکا کی مسلسل دھمکیوں اور جارحانہ اقدامات سے پورا خطہ اور اسلامی ممالک امن کے حوالے سے بڑے خطرے سے دوچار ہیں۔ امریکا ایک طرف امن معاہدوں کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب حملوں کا سلسلہ جاری رکھ کر جنگ کو طول دے رہا ہے۔

مرکزی امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی جنرل سیکریٹری مولانا محمود الحسن قاسمی اور دیگر رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ امریکا کا طرز عمل بظاہر امن معاہدے اور عملی طور پر جارحیت پر مبنی ہے۔ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کو امریکی جارحیت کے خلاف خاموشی ختم کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ ہمیشہ خطوں کو تباہی اور عدم استحکام سے دوچار کرتی ہے، اس لیے عالمی برادری امریکا کی جارحیت اور مبینہ بربریت کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ امریکی اقدامات سے خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔

جے یو آئی نظریاتی کے رہنماؤں نے بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت قیامِ امن میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو ڈاکوؤں اور دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کی قومی شاہراہوں اور مختلف اضلاع میں بدامنی کے باعث عوام خود کو محفوظ تصور نہیں کرتے، جبکہ امن و امان کے نام پر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود حالات میں بہتری نہ آنا حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت محض ورکشاپس، دعوؤں اور اعلانات کے ذریعے اپنی ناکامی نہیں چھپا سکتی، ملک میں امن کے قیام کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔