اسلام آباد (آئی این پی) ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر نے دعویٰ کیا ہے کہ پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی اموات جھلسنے سے نہیں بلکہ دھواں اور کالک سانس کے ذریعے جسم میں جانے کے باعث ہوئیں۔
پمز حکام کے مطابق آگ لگنے کے وقت نرسری میں 15 نومولود موجود تھے، جن میں سے ایک کو بچا لیا گیا۔ عملے نے بچوں کو بچانے کے لیے نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم دھماکے کے بعد چھت گرنے سے امدادی کارروائی متاثر ہوئی۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز نے بتایا کہ جاں بحق بچوں کی شناخت کلائیوں پر موجود شناختی ٹیگز کے ذریعے کی گئی۔ ان کے مطابق شناختی ٹیگز محفوظ تھے، اس لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت پیش نہیں آئی، جبکہ لاشیں ناقابل شناخت ہوتیں تو ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جاتا۔
دوسری جانب ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر بچوں کی شناخت پر بعض ورثا نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی رکن ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے گزشتہ روز پمز اسپتال کے دورے کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ نرسری میں 15 کے بجائے 40 سے 50 بچے موجود تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر بچوں کی لاشیں لواحقین کے حوالے کیسے کی گئیں۔






