لاہور میں گورننس سے متعلق ایک سیمینار میں سابق وزرا، سیاسی رہنماؤں اور ماہرین نے نئے صوبوں کے قیام، بلدیاتی نظام کو بااختیار بنانے اور مؤثر طرزِ حکمرانی کے لیے آئینی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ نظام میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
یونیورسٹی آف لاہور کے زیر اہتمام **”گورننس، لیکن نظام کیا؟”** کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے محمد علی درانی، سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ، وسیم اختر، فواد چوہدری، اسد عمر، لیاقت بلوچ، احسن بھون اور دیگر نے خطاب کیا۔
محمد علی درانی نے کہا کہ آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے اور جنوبی پنجاب و بہاولپور صوبے کے قیام پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ انہوں نے خاندانی سیاست کے خاتمے کو بھی نظام کی بہتری کے لیے ضروری قرار دیا۔
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان میں مؤثر سویلین بالادستی اور مضبوط مقامی حکومتوں کی ضرورت ہے، جبکہ انتظامی یونٹس کو بھی مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے۔
وسیم اختر نے کہا کہ بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور موجودہ نظام کئی برسوں سے مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا۔
فواد چوہدری نے نئے صوبوں کے قیام، بااختیار بلدیاتی نظام اور بعض ڈویژنز کو صوبے بنانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ بلدیاتی نظام کے مؤثر نفاذ کے لیے آئین میں ترمیم ضروری ہے۔ ان کے مطابق مقامی حکومتوں کو زیادہ مالی اور انتظامی اختیارات دیے جانے چاہییں اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بھی ان کے لیے الگ حصہ مختص ہونا چاہیے۔
لیاقت بلوچ نے آئین کی بالادستی، عدل و انصاف کے مضبوط نظام اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے مؤثر مکالمے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ احسن بھون نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ گورننس ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو آئینی طریقہ کار کے مطابق نظام چلانے اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانا چاہیے۔






