گڈز ٹرانسپورٹرز کے بعد آل پاکستان ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن نے بھی 8 اگست سے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔
اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کے باعث ٹرانسپورٹ کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے اور موجودہ نظام کے تحت کام جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ٹول ٹیکس 250 روپے سے بڑھا کر 750 روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ ود ہولڈنگ ٹیکس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کو 7 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کیا جائے۔
عہدیداران نے مزید کہا کہ اگر کسی گاڑی میں ایک بھی غیر کسٹم شدہ کارٹن موجود ہو تو پوری گاڑی ضبط کرنے کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے، جبکہ پہلے ایسے معاملات میں 20 فیصد جرمانہ عائد کر کے گاڑی چھوڑ دی جاتی تھی۔ ان کے مطابق حکومت نے ایکسل لوڈنگ قوانین کو بھی آمدنی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ زائد وزن والی گاڑیوں کو سڑکوں پر چالان کرنے کے بجائے فیکٹریوں میں لوڈنگ کے وقت ہی روکا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہیوی لوڈ گاڑیوں کے چالانوں سے آمدن حاصل کر رہی ہے، جبکہ ایچ ٹی وی لائسنس کے حصول کے لیے بھی ڈرائیوروں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا ہے۔






