کشمیر لاہور یا کشمور نہیں، پاکستان کی شہ رگ بنے گا، بیرسٹر گوہر

راولپنڈی (آئی این پی): پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ کشمیر کو لاہور یا کشمور بنانے کے دعوے درست نہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ بنے گا۔ انہوں نے حکمران جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کو موجودہ صورتحال تک پہنچانے میں دونوں بڑی جماعتوں کا کردار ہے۔

اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات حالات میں بہتری کی کنجی ہے، اگر ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو جائے تو حالات تبدیل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نورین نیازی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، ایسے اقدامات سے حالات بہتر نہیں ہوتے، اس وقت ملک کو دہشت گردی کے خلاف اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اسے لاہور یا کشمور نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے سیاست کو اس مقام تک پہنچایا، ایک طرف لاہور اور دوسری طرف کشمور بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ عوام مشکلات کا شکار ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے آزاد کشمیر انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا تھا، کیونکہ ہمارا مؤقف تھا کہ آزاد، شفاف اور منصفانہ انتخابات کے لیے پہلے ماحول سازگار ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام پرامن احتجاج کا حق رکھتے ہیں اور نہتے لوگوں پر طاقت کا استعمال کسی صورت درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو بھی سرکاری و عوامی املاک کا تحفظ کرنا چاہیے جبکہ حکومت کو بھی گولی کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہوا وہ پاکستان کا نقصان ہے، اس وقت سیاست اور پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے مصلحت سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ ان کی جماعت کسی صورت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حمایت نہیں کرے گی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، تاہم پرامن احتجاج سے نمٹنے کا طریقہ مختلف ہونا چاہیے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 5 اگست اہم دن ہوگا، پشاور میں بڑا جلسہ منعقد کیا جائے گا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کی جماعتوں سے رابطہ کریں گے اور امید ہے کہ وہ بھی اس موقع پر ساتھ ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق قوم کے لیے باعث فخر ہے، اگر مستقبل میں بھارت کی جانب سے کوئی مہم جوئی کی گئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو جمہوری راستے پر آگے بڑھانے کے لیے سیاسی قیادت کے درمیان رابطے ضروری ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور پی ٹی آئی الگ الگ حیثیت رکھتے ہیں، پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے جو سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مطالبات کی حمایت کی جا سکتی ہے، تاہم ریاست مخالف یا کشمیر کاز کے خلاف کسی مطالبے کی حمایت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام پاکستان کا حصہ ہیں، کشمیر کی صورتحال پر تشویش ہے، مزید اشتعال، خون ریزی اور بدامنی سے بچنے کے لیے حکومت کو عوام کے ساتھ بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکشن سے زیادہ اہم کشمیر کاز اور عوام ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ لفظی جنگ کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ دیں اور اداروں کو بھی صورتحال کا ادراک کرنا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ مشترکہ طور پر نہیں کیا بلکہ پی ٹی آئی نے یہ فیصلہ سیاسی حکمت عملی کے تحت کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ آئینی فریم ورک سے متعلق ہے، جس پر آئندہ حکومت فیصلہ کر سکتی ہے۔

close