ایرانی پاسداران انقلاب کا اردن میں امریکی فوجی اڈے اور سینٹکام کے مرکز پر حملہ

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی اڈے اور امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مرکز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمز میں وارننگ نظر انداز کرنے والے تین آئل ٹینکرز کو بھی روک لیا گیا ہے۔

دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے گئے، تاہم فضائی دفاعی نظام نے انہیں کامیابی سے روک لیا۔ امریکی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران نے اردن میں واقع امریکی فوجی اڈے کی جانب بیلسٹک میزائل فائر کیے، جس کے بعد اردن کی فضاؤں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ دفاعی نظام نے میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ “ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، لیکن ہم اسے بری طرح شکست دے رہے ہیں۔”

ادھر کویت کی وزراء کونسل نے ایران کی جانب سے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔

کویتی کابینہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے حملے خطے میں کشیدگی میں سنگین اضافہ ہیں اور یہ نہ صرف کویت بلکہ پورے خلیجی خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ کویت اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، جبکہ ملکی دفاع کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

کویتی حکومت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ خطے میں مزید کشیدگی روکنے، بین الاقوامی قوانین کے احترام کو یقینی بنانے اور امن و استحکام کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جائے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تین روز قبل ایران پر ایک روز کے لیے حملے روکنے کا حکم دیا تھا، تاہم مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔

close