اسلام آباد: چمن بارڈر پر ون ڈاکومنٹ پالیسی کے نفاذ کے بعد سرحدی بندش سے متاثرہ خاندانوں کی معاشی بحالی کے لیے وفاقی اور بلوچستان حکومت نے روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پہلے مرحلے میں چمن کے 500 متاثرہ نوجوانوں کو روزگار کے لیے بیرون ملک بھجوانے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے، جس کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سرحدی تجارت اور آمدورفت محدود ہونے کے باعث معاشی مشکلات کا شکار شہریوں کو متبادل روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کی آمدن بحال ہو سکے۔
بلوچستان حکومت اس سے قبل بھی بارڈر متاثرین کے لیے 5 ہزار مفت پاسپورٹس جاری کر چکی ہے، تاکہ بے روزگار نوجوان قانونی طریقے سے بیرون ملک ملازمت حاصل کر سکیں۔
حکام کے مطابق بیرون ملک روزگار حاصل کرنے والے نوجوان نہ صرف اپنے خاندانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ ترسیلاتِ زر کے ذریعے ملکی معیشت میں بھی مثبت کردار ادا کریں گے۔
دوسری جانب چمن کے مزدوروں اور بارڈر متاثرین نے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے ان کی معاشی مشکلات میں کمی آئے گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






