سیاسی بلیک میلنگ دفن ہو گئی، گن پوائنٹ پر کبھی مذاکرات نہیں ہوں گے، چیف سیکرٹری خوشحال خان

مظفرآباد: چیف سیکرٹری آزاد کشمیر خوشحال خان اور آئی جی پولیس کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے موجودہ صورتحال، امن و امان اور ریاستی اقدامات سے متعلق مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے، سڑکیں بند کرنے اور تشدد کی کارروائیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

چیف سیکرٹری خوشحال خان نے کہا کہ آٹے اور بجلی پر دی جانے والی بھاری سبسڈی کے باعث حکومت کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق بجلی کا نرخ پونے تین روپے فی یونٹ رکھنے سے سالانہ 8 سے 10 ارب روپے کے نقصان کا خدشہ ہے، جبکہ آٹے اور بجلی کی سبسڈی پر مجموعی طور پر 20 سے 25 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے مختلف معاملات پر مذاکرات اور آئینی حل کے لیے متعدد آپشنز پیش کیے، جن میں آل پارٹیز کانفرنس، اسمبلی اجلاس اور عدالتی راستہ شامل تھا، تاہم بعض حلقوں نے مطالبات میں مسلسل اضافہ کیا۔

چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ سڑکوں کی بندش، شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے اور ضروری اشیاء کی ترسیل میں خلل ڈالنے کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ حکومت کی اولین ترجیح تمام راستوں کی بحالی اور عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر عوام کو گمراہ کر کے انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ بیرون ملک موجود بعض کارکن پاکستان مخالف سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن و استحکام کے لیے تمام آئینی اور قانونی اقدامات جاری رہیں گے اور کسی قسم کی سیاسی یا پرتشدد دباؤ کی سیاست قبول نہیں کی جائے گی۔

اس موقع پر آئی جی پولیس کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے کہا کہ حالیہ واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کیے گئے، جن میں پولیس اہلکار زخمی اور بعض جان سے بھی گئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں پر حملے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور عوامی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

آئی جی پولیس نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے اور بعض مقامات پر ہتھیار چھپانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست مخالف سرگرمیوں اور تشدد کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو افراد غیر مشروط طور پر قانون کے سامنے سرنڈر کریں گے، ان کے ساتھ انصاف کے تقاضوں کے مطابق سلوک کیا جائے گا، تاہم ریاستی رٹ کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close