گوگل اور برطانوی حکومت نے طیاروں کے پیچھے آسمان پر بننے والی سفید لکیروں، جنہیں کونٹریلز (Contrails) کہا جاتا ہے، کو کم کرنے کے لیے مشترکہ منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آپریشن بلیو اسکائی کے تحت شان وک ایئر اسپیس میں آزمائشی پروگرام کیا جائے گا، جس میں طیاروں کے پرواز کے راستے اور بلندی میں معمولی تبدیلیاں کرکے یہ جانچنے کی کوشش کی جائے گی کہ کونٹریلز کی تشکیل کو کس حد تک روکا جاسکتا ہے۔
کونٹریلز اس وقت بنتی ہیں جب طیارے کے انجن سے خارج ہونے والے پانی کے بخارات انتہائی سرد فضا میں برف کے کرسٹل میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ یہ لکیریں بعض اوقات فوراً ختم ہوجاتی ہیں جبکہ مخصوص موسمی حالات میں زیادہ دیر تک فضا میں موجود رہ سکتی ہیں۔
منصوبے کے دوران موسمیاتی پیش گوئی کی مدد سے ان علاقوں کی نشاندہی کی جائے گی جہاں کونٹریلز بننے کا امکان زیادہ ہوگا۔ طیاروں کی بلندی میں تقریباً 2 ہزار فٹ تک ردوبدل کرکے اس عمل کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
گوگل اس منصوبے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی موسمیاتی پیش گوئی کے ماڈلز فراہم کرے گا، جبکہ سیٹلائٹ ڈیٹا اور مشین لرننگ کے ذریعے تجربات کے نتائج کا جائزہ لیا جائے گا۔
یہ منصوبہ تقریباً 30 ماہ تک جاری رہنے کی توقع ہے، جس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ پروازوں میں معمولی تبدیلیاں کرکے طیاروں سے بننے والے کونٹریلز کے موسمیاتی اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔






