معجزہ یا طبی مہارت؟ 5 سالہ بچے کا مکمل کٹا ہاتھ دوبارہ جوڑ دیا گیا

راولپنڈی (آن لائن) ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی کے ڈاکٹرز نے پیچیدہ اور کامیاب ری پلانٹیشن سرجری کرتے ہوئے 5 سالہ بچے کا کٹا ہوا ہاتھ دوبارہ کامیابی سے جوڑ دیا۔

جہلم کے رہائشی بچے کا ہاتھ ٹوکے کے وار سے جسم سے مکمل طور پر الگ ہوگیا تھا، جسے تشویشناک حالت میں 28 اگست کو ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی منتقل کیا گیا۔

شعبہ پلاسٹک سرجری کے ڈاکٹر طیب اور ڈاکٹر امبرین کی سربراہی میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے فوری طور پر آپریشن کا فیصلہ کیا۔ پیچیدہ مائیکرو ویسکیولر سرجری کے ذریعے بچے کے کٹے ہوئے ہاتھ کو دوبارہ جسم کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔

ڈاکٹرز کے مطابق سرجری کے دوران خون کی شریانوں، رگوں اور دیگر اہم ساختوں کو انتہائی باریک اور پیچیدہ تکنیک کے ذریعے بحال کیا گیا، جس کے نتیجے میں ہاتھ میں خون کی روانی دوبارہ بحال ہوگئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر بچے میں ہاتھ کی ری پلانٹیشن انتہائی پیچیدہ اور وقت طلب سرجری ہوتی ہے، جس میں بروقت طبی امداد، کٹے ہوئے عضو کو مناسب طریقے سے محفوظ رکھنا اور ماہر مائیکرو سرجیکل ٹیم کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔

ڈاکٹرز نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ حادثے میں جسم کا کوئی عضو کٹ جائے تو اسے براہِ راست برف پر نہ رکھیں۔ کٹے ہوئے عضو کو صاف پلاسٹک بیگ میں محفوظ کرکے اس بیگ کو برف والے دوسرے برتن میں رکھا جائے۔

ماہرین کے مطابق مریض کو فوری طور پر ایسے طبی مرکز منتقل کرنا چاہیے جہاں مائیکرو سرجری کی سہولت اور ماہر ٹیم موجود ہو، کیونکہ بروقت طبی امداد عضو کو دوبارہ جوڑنے کے امکانات میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔