زمین کے اندرونی نظام کو سمجھنے میں اہم پیش رفت، سائنسدانوں نے اہم کامیابی حاصل کرلی

چینی سائنس دانوں نے زمین کی سطح سے تقریباً 2,900 کلومیٹر گہرائی میں چھ بڑے ڈھانچے دریافت کیے ہیں، جہاں غیر معمولی ساختی فرق پائے جانے کا امکان ہے۔

چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کی ایک تحقیقاتی ٹیم نے ساڑھے تین دہائیوں کے دوران ریکارڈ کیے گئے 20 لاکھ سے زائد زلزلہ جاتی سگنلز کا مشین لرننگ کی مدد سے تجزیہ کیا۔ اس دوران سائنس دانوں کو زلزلہ جاتی لہروں میں ایسے مخصوص نمونے ملے جو زمین کی گہرائی میں موجود ان پٹی نما ساختوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

محققین کے مطابق یہ ڈھانچے توقعات سے کہیں زیادہ وسیع معلوم ہوتے ہیں اور ان کا مقام زمین کے بیرونی کور اور مینٹل کے سنگم کے قریب ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت زمین کے اندرونی نظام کو سمجھنے میں اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔ ان ساختوں کے مزید مطالعے سے مینٹل میں مادے کی نقل و حرکت اور آتش فشاں کے نیچے موجود میگما کے بارے میں زیادہ بہتر معلومات حاصل ہونے کی امید ہے۔

مستقبل کی تحقیق کے لیے سائنس دانوں نے شمالی عرضِ بلد میں یوریشیا اور جنوبی بحرِ اوقیانوس کے علاقوں کو بھی خصوصی اہمیت دی ہے۔