چار زبانوں پر مہارت میں عمر بھر جوان رہنے کا سائنسی راز، مگر کیسے ؟ جانئے

زبانیں سیکھنا صرف علم میں اضافہ نہیں کرتا بلکہ دماغ کو عمر بڑھنے کے اثرات سے کسی حد تک محفوظ رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ یورپی فیڈریشن آف نیورو سائنس سوسائٹیز کے فورم میں پیش کی گئی ایک تحقیق کے مطابق متعدد زبانیں بولنے والے افراد کا دماغ ان کی حقیقی عمر کے مقابلے میں نسبتاً کم عمر دکھائی دیتا ہے۔

تحقیق اسپین کے باسک سینٹر فار کاگنیشن، برین اینڈ لینگویج کی ڈاکٹر لوسیا اموروسو نے پیش کی، جس میں مختلف ممالک کے محققین نے بھی تعاون کیا۔ تحقیق میں اسپین کے باسک خطے کے افراد کا جائزہ لیا گیا، جہاں لوگ ایک سے چار زبانیں بولتے ہیں، جن میں ہسپانوی، باسکی، فرانسیسی اور انگریزی شامل ہیں۔

محققین نے دماغی عمر کا اندازہ لگانے کے لیے میگنیٹو اینسیفالوگرافی (MEG) ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا۔ ابتدائی طور پر 728 افراد کے دماغی سرگرمی کے نمونوں کا جائزہ لے کر دماغی عمر کی ایک ’گھڑی‘ تیار کی گئی، جسے بعد میں 144 افراد کے الگ گروپ پر آزمایا گیا۔

نتائج کے مطابق دو زبانیں بولنے والے افراد کی دماغی عمر، ایک زبان بولنے والوں کے مقابلے میں تقریباً 6 سال کم دکھائی دی۔ تین زبانیں بولنے والوں میں یہ فرق تقریباً 7 سال جبکہ چار زبانیں بولنے والوں کا دماغ حقیقی عمر کے مقابلے میں تقریباً 13 سال کم عمر دکھائی دیا۔

محققین کے مطابق اس کا تعلق صرف زبانوں کی تعداد سے نہیں بلکہ زبان سیکھنے کی عمر اور اس میں مہارت سے بھی ہے۔ دوسری زبان کم عمری میں سیکھنے اور اس پر زیادہ عبور رکھنے والے افراد میں دماغی عمر کے حوالے سے زیادہ نمایاں فرق دیکھا گیا۔

تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر لوسیا اموروسو کے مطابق متعدد زبانوں کا استعمال دماغ کو مختلف لسانی نظاموں کے درمیان مسلسل انتخاب اور کنٹرول کا تقاضا کرتا ہے، جو ممکنہ طور پر دماغی صحت اور عمر بڑھنے کے عمل پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

محققین اب یہ جاننے کے لیے مزید تحقیق کا ارادہ رکھتے ہیں کہ کثیر لسانی ہونے کے یہی اثرات الزائمر سمیت اعصابی تنزلی کی بیماریوں میں بھی دیکھے جاتے ہیں یا نہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی جانچا جائے گا کہ ایک دوسرے سے ملتی جلتی زبانیں بولنے سے دماغ پر زیادہ مضبوط اثر پڑتا ہے یا نہیں۔