نیپال میں حالیہ غیر معمولی سیلاب کے دوران محسوس کیے گئے زلزلے سے متعلق نئی رپورٹ نے اہم وضاحت کردی ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ جھٹکے روایتی زیرِ زمین زلزلے کے باعث نہیں بلکہ ایک طاقتور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔
بدھ کی صبح نیپال اور چین کی سرحد کے قریب، کھٹمنڈو کے شمال میں زمین میں شدید جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ ابتدائی طور پر امریکی جیولوجیکل سروے نے انہیں 4.4 شدت کے زلزلے کے طور پر رپورٹ کیا تھا، تاہم بعد میں رپورٹ میں تصحیح کی گئی۔
نئی تفصیلات کے مطابق پہاڑی ڈھلوان سے برف اور چٹانوں کا ایک بڑا تودہ نیچے گرا اور لھینڈے کھولا دریا میں جاگرا۔ لینڈ سلائیڈنگ سے پیدا ہونے والی توانائی کے باعث زمین میں ایسی شدید لرزش پیدا ہوئی جو زلزلے جیسی محسوس ہوئی۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق اس لینڈ سلائیڈنگ سے پیدا ہونے والی لرزش 5.2 شدت کے زلزلے کے برابر ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ کے دوران زمین، چٹانوں اور برف کے اچانک حرکت کرنے سے زلزلے جیسی لہریں پیدا ہوسکتی ہیں، تاہم اس کا تعلق ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت سے نہیں ہوتا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب نیپال کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے باعث صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے، جس کے پیش نظر امدادی اداروں کو اضافی احتیاط کی ضرورت ہے۔






