نیپال اور چین کے خطے تبت میں ہمالیائی دریا میں مٹی اور چٹانوں کا بڑا تودہ گرنے کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب سے تقریباً 1,500 افراد لاپتا ہیں، جن میں 800 سے زائد غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ قدرتی آفت کے نتیجے میں نیپال کے پہاڑی علاقوں اور وادیوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 165 سے تجاوز کرنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ریسکیو اہلکار ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سیلاب کے باعث گھروں، سڑکوں، پلوں اور بجلی کے منصوبوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق لاپتا غیر ملکیوں میں 177 بھارتی، 63 امریکی، 34 آسٹریلوی، 33 برطانوی اور 25 کینیڈین شہری شامل ہیں۔ جنوبی کوریا کے آٹھ شہری بھی لاپتا ہیں جو ایک پن بجلی منصوبے پر کام کر رہے تھے، جبکہ ملائیشیا اور جاپان کے شہریوں کے بھی لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق تبت کی گیریونگ کاؤنٹی میں 558 افراد لاپتا ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ چین اور نیپال کے اعداد و شمار میں ایک ہی افراد شامل ہیں یا نہیں۔ چینی حکام نے علاقے میں تین ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
سیلاب کے دوران پانی، کیچڑ اور چٹانوں کا ایک بڑا ریلا چین کی جانب سے سرحدی علاقے سے گزرتا ہوا نیپال پہنچا، جس سے متعدد عمارتیں اور گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ متاثرہ علاقوں میں کئی گھر کیچڑ میں دب گئے جبکہ متعدد گاڑیاں اور پل بھی پانی میں بہہ گئے۔
نیپالی فوج نے امدادی اور سرچ آپریشن کے لیے 2 ہزار اہلکار تعینات کیے ہیں۔ فوج کے مطابق اب تک 97 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے، جن میں تریشولی اے پن بجلی منصوبے کی سرنگ میں پھنسے تین کارکن بھی شامل ہیں۔
ابتدائی طور پر سیلاب کی وجہ زلزلے کو قرار دیا گیا تھا، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ابتدائی طور پر رپورٹ کیا گیا زلزلہ دراصل گلیشیئر کی چٹان اور برف کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والی زمینی توانائی تھی۔ سیٹلائٹ تصاویر سے بھی اشارہ ملا ہے کہ برف اور چٹانوں کے تودے گرنے کے نتیجے میں دریائے لہینڈے میں شدید سیلاب آیا۔
متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خیمے، خوراک اور دیگر امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے۔ بجلی کے منصوبوں کو نقصان پہنچنے کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔
چین کے مطابق گیریونگ بندرگاہ کے قریب لینڈ سلائیڈنگ سے سڑکیں، مواصلاتی نظام اور بجلی کے رابطے تباہ ہوئے ہیں، جبکہ ڈرون جائزے میں سرحدی گزرگاہ تک جانے والی متعدد سڑکیں مکمل طور پر تباہ دکھائی دی ہیں۔
قدرتی آفت سے متاثر ہونے والوں میں بڑی تعداد ان زائرین اور سیاحوں کی بھی ہے جو تبت میں واقع کیلاش مانسروور کی مذہبی زیارت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
دوسری جانب امریکا نے آفات سے نمٹنے کے ایک ماہر کو نیپال بھیجنے اور 5 لاکھ ڈالر امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ کینیڈا، اقوام متحدہ اور دیگر ادارے بھی امدادی سرگرمیوں میں تعاون کر رہے ہیں۔
ریسکیو ٹیموں کی جانب سے لاپتا افراد کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے اور حکام نے مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جس کے باعث ہلاکتوں اور لاپتا افراد کے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی ہوسکتی ہے۔






