امریکا کایوٹرن ، ایران کیلئےپالیسی میں بڑی تبدیلی

امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنے مؤقف میں ممکنہ نرمی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو پُرامن اور شہری مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال پر اصولی اعتراض نہیں۔

امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کے مطابق امریکا کا بنیادی مؤقف واضح ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی تو امریکا سخت کارروائی کرسکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ایرانی جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکا نے سعودی عرب کی طرز پر ایران کو بھی تجارتی اور پُرامن جوہری توانائی کے حصول میں تعاون کی پیشکش کی ہے، جس میں شہری مقاصد کے لیے افزودہ یورینیم کی فراہمی کی تجویز بھی شامل ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے سول نیوکلیئر انرجی کے استعمال کی گنجائش موجود ہے، تاہم تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا واشنگٹن کی اولین ترجیح ہے۔

کرس رائٹ نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی صورت میں امریکا سخت اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔