امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں شریعت کے نفاذ کو ممنوع قرار دینے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا میں صرف ایک قانونی نظام ہونا چاہیے اور وہ شریعت پر پابندی کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے بعض علاقوں میں شریعت کے اثرات موجود ہیں، تاہم اس حوالے سے انہوں نے کسی مخصوص علاقے یا ثبوت کی نشاندہی نہیں کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ جہاں انہیں شریعت کے نفاذ کا پتا چلے گا، وہاں اسے ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے لندن اور پیرس کا حوالہ دیتے ہوئے بھی کہا کہ بعض مقامات پر اسلامی قانون ایک الگ طرزِ زندگی کی صورت اختیار کرچکا ہے۔
تاہم امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ شریعت پر پابندی کے لیے نئی قانون سازی، صدارتی حکم نامے یا پہلے سے موجود کسی قانونی تجویز کی حمایت کریں گے۔






