امریکی نشریاتی ادارے **سی این این** نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا کے اہم میزائل دفاعی نظام **تھاڈ (THAAD)** میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹرز کا تقریباً 80 فیصد ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے اب تک امریکی فوج اپنے تھاڈ میزائلوں کے ذخیرے کا لگ بھگ 80 فیصد استعمال کر چکی ہے، جبکہ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں **پیٹریاٹ** انٹرسیپٹرز کا تقریباً نصف ذخیرہ بھی استعمال ہو چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق گولہ بارود کے کم ہوتے ذخائر اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں پر ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشات نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایرانی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملوں کا منصوبہ منسوخ کرنے پر آمادہ کیا۔
اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے نے بھی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ اس جنگ میں امریکا اپنے انتہائی درست نشانہ لگانے والے میزائلوں کا تمام ذخیرہ بظاہر استعمال کر چکا ہے۔
تاہم پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس نے اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر میں کمی سے متعلق ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور اس کے پاس صدر کے منتخب کردہ وقت اور مقام پر مؤثر کارروائی کے لیے تمام ضروری وسائل موجود ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے بھی کہا کہ امریکی فوج کے پاس صدر ٹرمپ کے تمام اسٹریٹجک اہداف اور اس سے آگے کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے گولہ بارود اور دیگر عسکری ذخائر ضرورت سے کہیں زیادہ موجود ہیں۔






