امریکا کے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لے جانے والے صدارتی ہیلی کاپٹر **میرین ون** اور ایک تجارتی مسافر طیارے کے درمیان پیش آنے والے سیکیورٹی واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ایف اے اے نے اپنے بیان میں کہا کہ ابتدائی جائزے کے مطابق یہ کوئی خطرناک تصادم کی صورتحال نہیں تھی اور نہ ہی دونوں طیارے براہِ راست ایک دوسرے کے سامنے آ رہے تھے، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کا ہیلی کاپٹر وائٹ ہاؤس کے قریب ایلیپس سے دوپہر تقریباً 2 بج کر 33 منٹ پر لاس اینجلس روانہ ہوا، لیکن ضابطے کے مطابق قریبی رونالڈ ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ پر تجارتی پروازوں کی آمد و رفت بروقت معطل نہیں کی گئی۔
ایئر ٹریفک کنٹرول کے قواعد کے مطابق ہوائی اڈوں کے قریب طیاروں کے درمیان کم از کم ڈیڑھ میل افقی اور 500 فٹ عمودی فاصلہ برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق فلوریڈا جانے والی ایک علاقائی مسافر پرواز اور **میرین ون** کے درمیان یہ مطلوبہ فاصلہ برقرار نہ رہ سکا، تاہم دونوں طیارے بحفاظت اپنی منزل پر پہنچ گئے۔
واقعے کے دوران احتیاطی تدبیر کے طور پر ایک اور مسافر طیارے کو بھی فضا میں چکر لگانے کی ہدایت دی گئی، جس کے بعد اس نے معمول کے مطابق لینڈنگ کی۔
واقعے کے بعد ایف اے اے نے ایک سیفٹی ریویو ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
واضح رہے کہ رونالڈ ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب ہیلی کاپٹروں کی پروازوں سے متعلق سخت پابندیاں جنوری 2025 میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر اور مسافر طیارے کے مہلک حادثے کے بعد نافذ کی گئی تھیں، جس میں 67 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بعد ازاں نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے ایئر ٹریفک کنٹرول کے نظام میں خامیوں کی نشاندہی کی، جس کے بعد یہ ضابطہ مقرر کیا گیا کہ جب بھی **میرین ون** پرواز کرے، تجارتی پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر روک دی جائے۔





