یمن کے ساحل کے قریب ایک بھارتی تجارتی بحری جہاز میزائل نما پروجیکٹائل کی زد میں آکر ڈوب گیا، تاہم جہاز میں سوار تمام 14 افراد، جن میں 13 بھارتی شہری شامل تھے، کو بحفاظت بچا لیا گیا۔
بھارت کے مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہیں سربانند سونووال کے مطابق میکانائزڈ بحری جہاز **ایم ایس وی فیض نور اولیا** یمنی پانیوں کے قریب حملے کا نشانہ بنا، جس کے نتیجے میں وہ الٹ کر ڈوب گیا۔ انہوں نے بتایا کہ یمنی کوسٹ گارڈ نے عملے کے تمام ارکان کو ریسکیو کرکے موخا بندرگاہ منتقل کر دیا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے دوران اب تک 45 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا جا چکا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق کارروائی کے دوران دو جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا، جبکہ دو کمرشل جہازوں پر چڑھ کر ناکہ بندی پر عمل درآمد بھی کرایا گیا۔
ادھر ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر میجر جنرل محسن رضائی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آبنائے ہرمز امریکا کی شرائط پر دوبارہ نہیں کھلے گی اور ایران وہاں کسی متبادل راستے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے مؤقف پر قائم ہے، اور اگر امریکا آبنائے ہرمز میں اپنا جہاز بھی بھیجتا ہے تو اسے نشانہ بنایا جائے گا، جبکہ امریکی فوج کی تعیناتی کی صورت میں بھی سخت ردعمل دیا جائے گا۔





