بہت سخت مار پڑے گی، امریکی صدر ٹرمپ کیایران کو نئی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو جلد از جلد بحری آمدورفت کے لیے کھولنا چاہیے، بصورت دیگر ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت جلد بحال ہو جائے گی، تاہم ایسا نہ ہونے کی صورت میں امریکا ایران کے خلاف سخت کارروائی کر سکتا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی، ورنہ ایران کو سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔ تاہم انہوں نے ممکنہ کارروائی کی نوعیت یا وقت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

دوسری جانب صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر نے عندیہ دیا کہ ایران کے ساتھ 48 گھنٹوں میں معاہدہ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں اور بحری تجارت میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ سے عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز، بحری آمدورفت اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر اشتعال انگیز اقدامات کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

سیاسی اور دفاعی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا تازہ بیان خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم ہے، تاہم آئندہ سفارتی اور فوجی پیش رفت ہی طے کرے گی کہ صورتحال مذاکرات کی جانب بڑھتی ہے یا مزید کشیدہ ہوتی ہے۔