بحیرہ احمر میں حوثی ملیشیا کی جانب سے جاری ناکہ بندی کے باوجود دو پاکستانی ایندھن بردار جہاز سعودی عرب سے خام تیل لے کر باب المندب اور بحیرہ احمر کے راستے بحفاظت پاکستان روانہ ہو گئے۔
بحری نقل و حمل پر نظر رکھنے والی عالمی انٹیلی جنس کمپنی **ونڈوارڈ** کے مطابق افرامیکس کلاس کے دونوں تیل بردار جہازوں نے سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ سے خام تیل لوڈ کیا اور پورے سفر کے دوران اپنا ٹریکنگ سسٹم فعال رکھا۔
کمپنی کے مطابق 20 جولائی کو حوثیوں کی جانب سے سعودی بندرگاہوں اور متعلقہ جہاز رانی کے خلاف ناکہ بندی کے اعلان کے بعد، چین سے وابستہ جہازوں کے علاوہ سعودی عرب سے منسلک بیشتر تیل بردار جہاز یا تو حملوں کی زد میں آئے یا انہیں کیپ آف گڈ ہوپ کے طویل متبادل راستے سے سفر کرنا پڑا۔
اس کشیدہ صورتحال میں پاکستانی پرچم بردار جہازوں کا بغیر کسی رکاوٹ کے محفوظ گزرنا ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے حوثیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی پاکستانی پرچم بردار بحری جہاز پر حملہ پاکستان کی سلامتی اور قومی تحفظ کے لیے براہِ راست خطرہ تصور کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق اس تنبیہ کے بعد پاکستانی جہازوں کا محفوظ سفر خطے کے بحری راستوں اور تجارتی سرگرمیوں کے تحفظ کے حوالے سے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔





