خبردار!!! عدالت کاکرایہ داروں کے حوالے سے اہم فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے کرائے دار کے خلاف بے دخلی کا حکم برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایک بار کرائے دار بننے والا شخص اس وقت تک کرائے دار ہی رہتا ہے جب تک وہ جائیداد کا قبضہ مالک کے حوالے نہ کر دے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کرائے دار کسی تیسرے فریق کی ملکیت کا سہارا لے کر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا۔ جسٹس مزمل اختر شبیر نے بلقیس بیگم کی دعویٰ ملکیت پر مبنی اعتراضی درخواست مسترد کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے دکان سے کرائے دار نہال دین کی بے دخلی کا فیصلہ بھی برقرار رکھا، جبکہ بلقیس بیگم کی ملکیتی اعتراض کی درخواست ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پر خارج کر دی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ بلقیس بیگم کی دکان کو پہلے ہی بے دخلی کے حکم سے مستثنیٰ قرار دیا جا چکا تھا، تاہم موجودہ درخواست اپنے حقوق کے تحفظ کے بجائے کرائے دار کو فائدہ پہنچانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں کوئی قانونی یا اختیاراتی خامی موجود نہیں، لہٰذا اپیل مسترد کی جاتی ہے۔