وفاقی حکومت نے توشہ خانہ قواعد و ضوابط تیار کر لئے

وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے قواعد و ضوابط تیار کر لیے ہیں، جن کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔ نئے قواعد کے تحت ہر عوامی عہدیدار کے لیے لازم ہوگا کہ اسے ملنے والا ہر تحفہ 30 روز کے اندر توشہ خانہ میں جمع کرائے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

کابینہ ڈویژن کے ذرائع کے مطابق اگر کوئی عوامی عہدیدار مقررہ مدت میں تحفہ توشہ خانہ میں جمع نہیں کراتا تو اس پر تحفے کی مارکیٹ قیمت سے پانچ گنا تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ سرکاری ملازمین کے معاملے میں جرمانے کے ساتھ محکمانہ کارروائی بھی کی جائے گی۔

نئے قواعد کے مطابق توشہ خانہ میں موجود تمام تحائف کھلی نیلامی کے ذریعے فروخت کیے جائیں گے، جبکہ حکومت سے تنخواہ، مراعات یا دیگر فوائد حاصل کرنے والا کوئی بھی شخص نیلامی سے تحائف خریدنے کا اہل نہیں ہوگا۔

نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم ملک کے پسماندہ علاقوں میں بچیوں کی ابتدائی تعلیم پر خرچ کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق ان قواعد کا اطلاق تمام عوامی عہدیداروں اور سرکاری وفود کے نجی ارکان پر ہوگا۔ یہ قواعد **توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن ایکٹ 2024** کی روشنی میں تیار کیے گئے ہیں۔ حکومت کو ایکٹ کی منظوری کے بعد قواعد مرتب کرنے میں تقریباً سوا دو سال لگے، جبکہ وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری کے بعد ان کا سرکاری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔