لاہور (آئی این پی) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ مال دولت، عزت اور اختیار مل جاتے ہیں مگر خدمت کی توفیق کسی کسی کو ملتی ہے، وزراء، بیوروکریسی، افسروں، ڈاکٹروں اور سب کو کہتی ہوں جو امانت ملی ہے، بہترین سرانجام دیں گے تو بہترین اجرا ملے گا، روزانہ میٹنگ اور روٹین کے کام ہوتے ہیں جس دن عوامی خدمت کا کوئی فیصلہ یا اقدام نہ کروں لگتا ہے دن ضائع گیا، جب ہم اچھا کام کرتے ہیں تو آپ کا دل گواہی دیتا ہے، یہی جانچنے کا طریقہ ہے، جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں آکر ملنے والی خوشی بیان سے باہر ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور مریم نواز ہارٹ ٹرانسپلانٹ سنٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں پنجاب میں ہوم ڈائیلاسز مشین متعارف کرانے کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میرا خواب تھا، بے چینی سے تکمیل کا انتظار کررہی تھی۔ تین کروڑ آبادی کے شہر لاہور میں نواز شریف کا قائم کردہ پی آئی سی بہترین کام کررہا ہے۔
پی آئی سی میں پنجاب کے علاوہ گلگت، آزاد کشمیر اور کے پی کے لوگ بھی آتے ہیں۔ دل کی بیماری اتنی بڑھ گئی ہے، ایک سرکاری ہسپتال کے ذریعے سب کا علاج مشکل ہورہا تھا۔ خوشی ہے کہ جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی نہ صرف فنکشنل ہوچکا ہے بلکہ انجیو گرافی بھی ہوچکی ہے۔ بیمار کی عیادت بہت بڑا درجہ ہے، خدمت اور علاج کا کتنا بڑا درجہ ہوگا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ڈاکٹر حسنات کو مبارکباد پیش کرتی ہوں جو انگلینڈ چھوڑ کر خدمت کے جذبے سے واپس آگئے۔ ڈاکٹر حسنات پاکستان سے پڑھ کر گئے اور وہاں نام پیدا کیا۔ پاکستان سے بہت سے ڈاکٹر جاکر دوسرے ممالک میں بہترین کام کرتے ہیں۔
مغربی ممالک سے موازانہ سب کا محبوب مشغلہ ہے، ان کی لمبی تاریخ ہے، پاکستان کو بنے صرف 79 سال ہوئے ہیں۔ کئی مغربی ممالک کی آبادی لاہور یا کسی گلی محلے سے بھی کم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال سرکاری ہسپتالوں میں 10 کروڑ لوگ آئے۔ یہاں میڈیسن، سرجری پروسیجر فری ہوتے ہیں، دوائیاں گھروں میں پہنچاتے ہیں کس ملک میں یہ ہوتا ہے؟ میں یہ نہیں کہتی کہ یہاں بہتری کی گنجائش نہیں، گنجائش تو ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں میڈیسن، انجکشن، انسولین چوری ہوجاتی ہے، سٹاف پیسا لیتا ہے، ساز باز کرکے ہسپتالوں کی مشینیں خراب کر دی جاتی ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ سب مسائل رکاوٹوں کے باوجود سرکاری ہسپتالوں میں 10 کروڑ لوگوں کا علاج معمولی بات نہیں۔
سیاسی جماعتوں کا فوکس، ڈیلیوری، خدمت اور پرفارمنس پر ہونا چاہیے مگر ایسے نہیں۔ کسی جماعت کا فوکس دنگا فساد اور کسی کا کرپشن ہے، مسلم لیگ (ن) کا مزاج خدمت اور ڈویلپمنٹ ہے۔ پاکستان کے جس پراجیکٹ کو دیکھیں، محمد نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی مہر نظر آتی ہے، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان میں پہلا ہارٹ ٹرانسپلانٹ سنٹر شروع کررہے ہیں۔ ہارٹ ٹرانسپلانٹ بہت مہنگا علاج ہے، 50 ہزار ڈالر کے لگ بھگ لاگت آتی ہے۔ چائینز ٹیکنالوجی استعمال کرکے ہارٹ ٹرانسپلانٹ کی لاگت 10 ہزار ڈالر کے لگ بھگ لائیں گے تاکہ زیادہ لوگ مستفید ہوں۔
جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہارٹ ٹرانسپلانٹ 100 فیصد مفت ہوگا۔ پاکستان میں اپنی طرز کا واحد ہارٹ ٹرانسپلانٹ سنٹر قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں چھ کیتھ لیب، پانچ آپریشن تھیٹرز اور پہلی مرتبہ ہارٹ اینڈ لنگز مشین لائے ہیں۔
جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو دیکھ کر لگتا ہے سوئٹرز لینڈ کے آپریشن تھیٹرز ہیں۔ جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی کیتھ لیب سے اے آئی ٹیکنالوجی بھی منسلک ہے۔ جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہائبرڈ کیتھ لیب بھی ہوگی تاکہ سرجری کی ضرورت ہو تو فوری طور پر کی جاسکے۔ ہائبرڈ کیتھ لیب فوری طور پر آپریشن تھیٹر بن جاتی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ دل کا آپریشن نازک اور احساس ہوتا ہے، جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیرو انفیکشن ٹیکنالوجی لائے ہیں۔ جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ٹیسلا ایم آر آئی اور 640 سی ٹی سکین مشین نصب کی گئی ہیں۔ جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جدید ترین الیکٹروفیزیالوجی ڈیپارٹمنٹ بھی قائم کیا گیا ہے۔
نیوزی لینڈ سے آنے والے ڈائریکٹر نرسنگ کے طور پر کام کررہے ہیں۔ خواتین محنت سے کام کرتی ہیں، کرنل سبرینہ کو جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ذمہ داری دی گئی ہے۔
جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی ایڈمنسٹریشن سے توقع ہے کہ مریضوں کو انتظار نہ کرنا پڑے، ادویات چوری نہ ہوں اور انفیکشن فری ہو۔ ڈھائی سال پہلے 15 ہزار بچے ہارٹ سرجری کے منتظر تھے، 14600 بچوں کے آپریشن ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان والدین سے پوچھے جن کے بچوں کے دل میں سوراخ ہے ان کے پاس پیسے نہیں صرف آنسو اور انتظار تھا۔ پنجاب میں آرگن ٹرانسپلانٹ کے 2460 آپریشن ہوچکے ہیں۔ سٹروک پروگرام کامیابی سے ڈسٹرکٹ کی سطح پر چل رہا ہے۔ فالج کے بعد ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔
میانوالی اور جھنگ جیسے علاقوں میں کسی نے کیتھ لیب تو دور کی بات دل کے علاج کا بھی نہیں سوچا تھا۔ پنجاب کے 20 اضلاع میں کیتھ لیب بنا چکے ہیں۔ پاکستان میں 1000 بیڈ کا سب سے بڑا کینسر ہسپتال بنارہے ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ دوسرے صوبے بھی پنجاب کی تقلید کرکے ایئر ایمبولینس چلارہے ہیں۔ 60 منٹ کے گولڈن آور میں مریض کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال پہنچا دیا جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کے لوگوں نے گرین بس، ستھرا پنجاب اور کلینک آن ویل کی ڈیمانڈ کی۔
دیہات اور دورداز علاقوں میں کلینک آن ویل پارک کرکے طبی ٹیسٹ، علاج اور ایکسرے وغیرہ کیے جاتے ہیں۔ ماں اور نومولود بچے کے معائنہ کے لئے ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں۔ 10 لاکھ لوگوں کو کینسر، ہارٹ اور ٹی بی جیسی ادویات کا دو دو ماہ کا اسٹاک مفت مل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکمران کو عوام کی دہلیز تک سہولتوں کو پہنچانا چاہیے۔ عوام کو اپنے حق کیلئے رلنا پڑے تو سمجھے حکومت ناکام ہے۔ آئی ڈی اے پی کے سی ای او شاہ میر کو کہتی ہوں کہ جلد از جلد میڈیکل ڈسٹرکٹ مکمل کریں تاکہ مریضوں کو اچھے علاج مل سکے۔
دعا ہے کہ ہر سرکاری ہسپتال عوام کی خدمت کے نئے معیار قائم کرے۔






