وزیراعظم کہتے ہیں آئیے بات کریں تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے، مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد میں سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان کی قیام گاہ پر اپوزیشن رہنماؤں کا اجلاس ہوا، اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی، علامہ راجا ناصر عباس، اسد قیصر، جنید اکبر اور سلمان اکرم راجا شریک ہوئے، اجلاس میں مولانا عبدالغفور حیدری، کامران مرتضیٰ، مولانا عبدالواسع اور انجینئر ضیاء الرحمان بھی شریک ہوئے۔

مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں آئیے بات کریں، تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے، یہاں ایک ہاتھ ہے جو قوم کو تھپڑ مار رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتا ہے، حکومت صرف تسلیاں دے رہی ہے، ہم گزشتہ 20 سال سے تسلیاں سن رہے ہیں، حالات میں بہتری نہ آنے کی وجہ سے معیشت پر اثر پڑ رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کب تک خاموش رہا جائے، کب تک ہم مصلحتوں کا شکار رہیں، جو بیانیہ سرکار کی طرف سے دیا جارہا ہے وہ غلط ہے۔

انہوں نے کہا نئے صوبوں کی باتیں کی جارہی ہیں، کس امید پر اس طرح کی باتیں کی جارہی ہیں۔ آگ لگی ہے اور آپ کہہ رہے ہیں آؤ گھر تقسیم کریں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ آگ ہو اور صوبے بنیں۔

سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان نے کہا اتفاق کیا گیا ہے پارلیمنٹ میں ایک جوائنٹ اپوزیشن بنائی جائے، اس کا مقصد پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے مؤثر اقدامات کرنا ہیں، فیصلہ کیا ہے اپوزیشن کی طرف سے اپنا مؤقف قوم تک پہنچائیں گے۔

تحریک انصاف کے سلمان اکرم راجا نے کہا جس تھپڑ کا ذکر مولانا نے کیا وہ ہم سب کے چہروں پر پڑ رہا ہے، یہ رویہ ملک کیلئے مہلک ہے، ہمیں پوری قوم کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔