بادام کو ویسے چبائیں، کھانے میں شامل کریں یا پیس کر کھا لیں۔ ہر صورت میں یہ گری صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق بادام کھانے سے ہائی بلڈ شوگر کے مریضوں کی دماغی اور میٹابولک صحت دونوں بہتر ہوتی ہیں۔
دی جرنل آف نیوٹریشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ بادام کھانے کی عادت سے دماغی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔
اس تحقیق میں 40 سے 60 سال کی عمر کے 60 افراد شامل تھے جو ہائی بلڈ شوگر کا شکار تھے لیکن ذیابیطس ٹائپ 2 نہیں تھی۔ شرکاء کو 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ کو 6 ماہ تک روزانہ 28 سے 40 گرام بادام دیے گئے جبکہ دوسرے گروپ نے بادام نہیں کھائے۔
6 ماہ بعد آن لائن ٹیسٹوں سے دماغی کارکردگی جانچی گئی۔ ساتھ ہی خون کے نمونوں سے بلڈ شوگر، انسولین، ورم اور خلیاتی تناؤ کو بھی چیک کیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ بادام کھانے والے گروپ نے دماغی کارکردگی کے ٹیسٹوں میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ ان کی معلومات پر تجزیہ کرنے اور ردعمل دینے کی رفتار بھی تیز ہوگئی۔ اس کے ساتھ ان کے جسمانی وزن میں کمی آئی اور وہ بلڈ شوگر کو زیادہ بہتر کنٹرول کرنے لگے۔
محققین کے مطابق بادام فائبر، پروٹین، صحت مند چکنائی، میگنیشم، اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں جو بلڈ شوگر کنٹرول کرنے، ورم اور تکسیدی تناؤ کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ میٹابولک صحت بہتر ہونے سے دماغی افعال کو بھی تحفظ ملتا ہے۔
محققین نے کہا کہ تحقیق میں شرکاء کی تعداد کم تھی، اس لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ تاہم گریوں، پھلوں، سبزیوں اور دیگر غذائی اجزا سے بھرپور غذا دماغی صحت کے لیے مفید ہے۔






