سہیل آفریدی کا 100 دن میں امن قائم کرنے کا فارمولا پیش

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے موجودہ پالیسی اور حکمت عملی تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر نئی پالیسی تشکیل دی جائے۔

وزیراعلیٰ نے یہ بات وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں امن و امان سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر اطلاعات، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ، محکمہ انسداد دہشت گردی کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول صوبے کے 80 ہزار سے زائد افراد جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں، تاہم ان قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والے امن کو دوبارہ بدامنی کا سامنا ہے۔

وزیراعلیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت نے امن و امان کی بہتری کے لیے اپنی استعداد اور وسائل سے بڑھ کر اقدامات کیے ہیں، تاہم ان کے مطابق صرف پولیس کو وسائل فراہم کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ وفاقی سطح پر پالیسی میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی تجویز کردہ نئی حکمت عملی پر عمل درآمد کیا جائے تو 100 دن میں خیبرپختونخوا میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت، انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر نئی پالیسی بنائی جائے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق صوبائی حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کرکے پولیس کو اضافی 35 ارب روپے فراہم کیے، جبکہ مالی سال 2026 میں پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کے دفتر کے مطابق پولیس کا بجٹ تقریباً 190 ارب روپے تک بڑھایا گیا ہے۔

اجلاس میں محکمہ انسداد دہشت گردی کے جاری استعداد کار میں اضافے کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے کی تکمیل کے لیے درکار مالی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا فارنزک سائنس لیبارٹری کے قیام پر پیش رفت بھی طلب کی اور ہدایت کی کہ مکمل لیبارٹری کے قیام تک پولیس کی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے مطلوبہ آلات خریدے جائیں اور دستیاب لیبارٹری کی سہولیات سے استفادہ کیا جائے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں پولیس، فوجی اہلکاروں اور عام شہریوں کی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کی پالیسی میں صوبے کے زمینی حقائق اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی رائے کو شامل کیا جائے۔

انہوں نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز رکھیں اور کسی سیاسی تنازع کا حصہ نہ بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت پولیس فورس کے ساتھ کھڑی ہے اور اس کی ضروریات ترجیحی بنیادوں پر پوری کی جا رہی ہیں۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کی مرضی اور عوامی مینڈیٹ کے برعکس کوئی اقدام قابل قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور وفاق کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی۔

وزیراعلیٰ کے مطابق دیرپا امن کے لیے زمینی حقائق، صوبے کے عوام اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ضروری ہے، کیونکہ خیبرپختونخوا کے عوام مزید بدامنی اور خونریزی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔