خبردار !‌ اس مشہور دوا کے استعمال سے آپ بینائی سے محروم ہوسکتے ہیں؟

نیویارک: وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی مشہور ادویات کے استعمال سے بینائی متاثر ہونے کے دعووں کے بعد 90 سے زائد افراد نے عدالتوں سے رجوع کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکا میں ذیابیطس کے علاج اور وزن گھٹانے کے لیے استعمال ہونے والی انتہائی مقبول جی ایل پی-1 ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کے خلاف 90 سے زائد افراد نے مقدمات دائر کیے ہیں۔

مقدمات دائر کرنے والے شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان ادویات کے استعمال کے باعث وہ بینائی سے محروم ہوگئے یا ان کی نظر شدید متاثر ہوئی۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ان ادویات کے استعمال کے باعث وہ این اے آئی او این (غیر شریانی اگلا اسکیمک آپٹک نیوروپیتھی) نامی ایک نایاب طبی مرض کا شکار ہوئے، جسے عام زبان میں ’’آنکھ کا فالج‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری انسان کو مستقل طور پر نابینا کرسکتی ہے۔

طبی ماہرین نے کہا ہے کہ فی الحال ایسے حتمی سائنسی شواہد یا ثبوت سامنے نہیں آئے جن سے یہ ثابت ہوسکے کہ جی ایل پی-1 ادویات براہِ راست اس بیماری کا باعث بنتی ہیں۔

تاہم کچھ تحقیقات اور مطالعات میں اس مرض کے خطرے میں معمولی اضافے کی نشاندہی ہوئی ہے، جبکہ دیگر تحقیقات میں ادویات اور بینائی کے نقصان کے درمیان کوئی واضح تعلق نہیں پایا گیا۔

یورپی میڈیسنز ایجنسی کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں میں جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والے ہر 10 ہزار افراد میں سے تقریباً ایک فرد میں بینائی کی اس بیماری کے لاحق ہونے کا امکان ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ جی ایل پی-1 ادویات، جن میں اوزیمپک اور ویگووی جیسی ادویات شامل ہیں، خون میں شوگر کی سطح کم کرنے اور وزن گھٹانے میں مدد دیتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خون میں شوگر کی سطح میں تبدیلی آنکھ کے لینس کی شکل کو متاثر کرسکتی ہے، جس کے باعث عارضی طور پر نظر دھندلا ہوسکتی ہے۔ یہ مسئلہ عموماً تین سے چار ماہ میں بہتر ہوجاتا ہے۔

ماہرین نے جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والے افراد، خصوصاً ذیابیطس کے مریضوں، کو باقاعدگی سے آنکھوں کا معائنہ کرانے اور نظر میں کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں فوری طور پر ماہرِ امراض چشم سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔