واشنگٹن (آئی این پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بچوں کے لیے معمول کے حفاظتی ٹیکوں کی سفارشات کو 11 بیماریوں تک محدود کرنے سے متعلق انتظامی حکم پر دستخط کر دیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق نئی سفارشات میں بعض ویکسینز کو معمول کی بجائے انفرادی طبی فیصلے کی بنیاد پر استعمال کرنے کی گنجائش دی گئی ہے۔
حکم میں خسرہ، ممپس اور روبیلا کی مشترکہ ویکسین کو تین الگ الگ ٹیکوں میں تقسیم کرنے اور انہیں مختلف طبی ملاقاتوں میں لگانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ نئی پالیسی سے امریکی بچوں کو ’’گولڈ اسٹینڈرڈ‘‘ تحفظ فراہم ہوگا، تاہم طبی ماہرین اور صحت کے اداروں نے اس تبدیلی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ویکسین کے شیڈول میں تبدیلی کے لیے نئی سائنسی بنیاد سامنے نہیں آئی، جبکہ ٹیکوں میں تاخیر سے بچوں میں قابلِ تدارک بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے حکم کے مطابق ہیپاٹائٹس اے، ہیپاٹائٹس بی، روٹا وائرس، گردن توڑ بخار، انفلوئنزا اور کووڈ انیس کی ویکسینز کو مشترکہ طبی فیصلے کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔






