پنجاب میں حالیہ موسلادھار مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات میں توسیع کی تجویز زیر غور ہے۔ شدید متاثرہ اضلاع میں اسکولوں کو اگست کے وسط کے بعد بھی بند رکھنے کی سفارش سامنے آئی ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو سفارش کی ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اسکول فوری طور پر نہ کھولے جائیں، کیونکہ مسلسل بارشوں کے باعث طلبہ، اساتذہ اور اسکول عملے کی حفاظت کو خطرات لاحق ہیں۔
اطلاعات کے مطابق تعطیلات میں توسیع کی تجویز محکمہ تعلیم کے پاس حتمی منظوری کے لیے موجود ہے، تاہم موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس پر فیصلہ کیا جائے گا۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں تعلیمی ادارے اس وقت تک نہ کھولے جائیں جب تک سیلابی پانی کم نہ ہو جائے۔
پنجاب حکومت نے مون سون بارشوں سے متاثرہ اسکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کا مکمل سروے کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات کو متاثرہ عمارتوں کا معائنہ کرکے ان عمارتوں کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو ناقابل استعمال یا خطرناک ہو چکی ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کا چوتھا اسپیل 5 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں و ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہونے کا خدشہ ہے۔
لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، مری، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، قصور، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ اور سرگودھا سمیت مختلف اضلاع میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے نشیبی شہری علاقوں میں سیلاب کے خطرے کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں مسلسل بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔






