معروف کلاسیکی رقاصہ انتقال کر گئیں ، انڈسٹری سوگوار

فنونِ لطیفہ اور کلاسیکی رقص کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کرنے والی معروف کلاسیکی رقاصہ اور استاد اندو مِٹھا 97 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

اندو مِٹھا 1929 میں لاہور میں اندو چٹرجی کے نام سے ایک بنگالی برہمن خاندان میں پیدا ہوئیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت ان کا خاندان دہلی منتقل ہوگیا، جہاں انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے فلسفے میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اسی دوران انہوں نے جنوبی بھارت کی ریاست تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والے قدیم کلاسیکی رقص بھرت ناٹیم کی تربیت بھی حاصل کی۔

1951 میں کیپٹن ابوبکر عثمان مِٹھا سے شادی کے بعد وہ پاکستان واپس آگئیں۔ ان کے شوہر بعدازاں پاک فوج میں میجر جنرل کے عہدے تک پہنچے اور ہلالِ جرات سے بھی نوازے گئے۔

شوہر کی ملازمت کے باعث اندو مِٹھا نے پاکستان کے مختلف علاقوں کا سفر کیا اور جہاں بھی گئیں، کلاسیکی رقص پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

انہوں نے لاہور گرامر اسکول میں رقص کی تدریس کی اور بعدازاں اپنی اکیڈمی ’مضمونِ شوق‘ قائم کی، جہاں انہوں نے رقص سیکھنے کے خواہش مند متعدد نوجوانوں کی تربیت کی۔

فنونِ لطیفہ کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے 2020 میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا۔

اندو مِٹھا کی زندگی اور فن پر ان کے شاگردوں نے ’ہاؤ شی مووز‘ کے نام سے ایک دستاویزی فلم بھی بنائی، جس میں پاکستان کے کلاسیکی رقص اور موسیقی کے ورثے کو اجاگر کیا گیا۔